نئی دہلی،23جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ معاملہ میں آج سپریم کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس ارون مشراء اورجسٹس امیتوارائے نے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی مداخلت کار بننے کی درخواست پر کوئی کارروائی نہ کرتے ہوئے معاملے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیئے ملتوی کردی نیز مداخلت کار کی عرضداشت داخل کرنے والے دیگر فریقین کو کہا کہ ان کی درخواستوں پر معاملے کی سماعت کے دوران فیصلہ کیا جائے گا ۔ سپریم کورٹ میں جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل کی گئی عرضداشت میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ سبرامنیم سوامی کو اس معاملے میں مداخلت کار بننے کی اجازت نہ دی جائے۔واضح رہے کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر کی حمایت میں سبرامنیم سوامی کی جانب سے بطور مداخلت کار کی درخواست پرجمعیۃ علمائے ہند کے وکلاء نے شدید مخالفت کی تھی جس کے بعد اس پر فیصلہ ہونے والا تھا لیکن آج ایک با رپھر جمعیۃ علما ء کی مداخلت کے بعد سبرامنیم سوامی کی عرضداشت پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ۔ اور معاملے کی سماعت ملتوی کردی گئی۔ سپریم کورٹ کایہ فیصلہ سبرامنیم سوامی کے لئے بڑا جھٹکا لگا ہے کیونکہ گذشتہ کئی سماعتو ں سے وہ لگاتار عدالت سے مداخلت کار بننے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش میں تھے ۔ جمعیۃ علماء کی جانب سے آج سینئر وکیل نتیا راما کرشنن اور ایڈوکیٹ ارشادحنیف،ایڈوکیٹ عارف علی اور ایڈوکیٹ مجاہد علی سپریم کورٹ میں پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں موجود تھے ۔واضح رہے کہ23؍ دسمبر 1949 کی شب میں بابری مسجد میں مبینہ طورپررام للا کے ظہور کے بعد حکومت اتر پردیش نے بابری مسجد کو دفعہ145؍ کے تحت اپنے قبضہ میں کرلیا تھا جس کے خلاف اس وقت جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیر فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نے فیض آباد کی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کا تصفیہ گذشتہ برسوں الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دیا گیاتھا ۔متذکرہ فیصلے کے خلاف جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت عمل میںآئی ۔ سید نصیر فیض آبادی اور مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری کے انتقال کے بعد صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا اشہد رسیدی اس معاملے میں مدعی بنے ہیں ۔سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ کے ذ ریعے بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں سبرامنیم سوامی کو مداخلت کار بننے کی اجازت نہ دینے اور اس معاملے کوغیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دئے جانے پر جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سبرامنیم سوامی کی ذہنیت اور نیّت سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں اور ان کے مداخلت کار بننے کا مقصد مقدمہ کو صحیح سمت جانے سے روکنا ہے ۔ ایسے میں عدالت عالیہ کے ذریعے انہیں مداخلت کار بننے کی اجازت نہ دئے جانے سے انصاف پسند حلقو ں کو خوشی ہوئی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بابری مسجد ملکیت مقدمہ کا جلد سے جلدفیصلہ آئے گا انصاف ضرورملے گا۔